جدید امر

اس فورم میں آپ اردو میں موضوعات کا تبادلہ اور تبادلہ خیال کرسکتے ہیں

Moderator: Shana

Post Reply
MoonlitKnight14
Posts: 6
Joined: Sun Jul 12, 2020 8:26 pm

قائم علیہ السلام کا جدید امر


امام باقر علیہ السلام نے فرمایا، جب ہمارے قائم کا خروج ہوگا اور وہ لوگوں کو بلائیں گے ایک امر جدید کی طرف، جیسا کہ خدا کے پیغمبر نے بلایا۔ اور بے شک اسلام آغاز میں عجیب تھا، اور یہ آخری زمانے میں پھر عجیب ہوجایئگا۔ اور خوشخبری ہو عجنبوں کو۔" - غیبہ النعمانی، صفحہ نمبر 336، بحارالانوار جلد 52، صفحہ نمبر 336

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا، " قائم علیہ السلام امر جدید کے ساتھ قیام کرینگے، ایک نئ کتاب اور نئ شریعت کے ساتھ۔ کہ جو عرب کے لئے دشوار ہوگی۔" - غیبہ النعمانی، صفحہ نمبر 238، بحارالانوار، جلد نمبر 52، صفحہ نمبر 354

عبداللہ ابن عطا کہتا ہے کہ میں نے امام ابو جعفر محمد ابن باقر علیہ السلام سے پوچھا، "ہمیں قائم کے متعلق آگاہ کیجئے۔"
انہوں نے کہا، "وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نقش قدم پہ چلے گا، وہ گزشتہ چیزوں کو مٹانے گا، اور نئ چیزوں کے ساتھ آئے گا۔" - غیبہ النعمانی صفحہ نمبر 219


امام باقر علیہ السلام سے دریافت کیا گیا، "جب قائم قیام کریگا، وہ لوگوں کے درمیان کس طرح چلے گا؟" آپ علیہ السلام نے کہا، "وہ اپنے سے پہلے والی چیزوں کو ختم کردےگا، جیسا کہ رسول خدا نے کیا اور وہ نیا اسلام لائے گا-" - غیبہ النعمانی صفحہ نمبر 236، بحارالانوار، جلد نمبر 52، صفحہ نمبر 352

امیر المومینین امام علی علیہ السلام اپنے ایک طویل خطبے میں، "اور وہ لوگوں کے لئے ایک نئ کتاب لائے گا جو منکرین کے لئے مشکل اور شدید ہوگی۔ وہ لوگوں کو ایک امر کیطرف بلائےگا۔ جو اسکو تسلیم کریگا، ہدایت سے رہ جایئگا۔ سو وائے ہو، وائے ہو منکرین پر۔" - الزام الناصب


ابو جعفر امام باقر علیہ السلام نے فرمایا، "قائم امر جدید کے ساتھ قیام کرتا ہے، اور ایک جدید کتاب اور جدید قانون جو کہ اہل عرب کے لئے مشکل ہوگا۔ اسکا معاملہ تلوار کے علاوہ کچھ نہ ہوگا۔ اور وہ کسی کی تہمت کی پرواہ نہ کریگا۔"
غیبہ النعمانی صفحہ نمبر 238


امام الصادق علیہ السلام نے فرمایا،
"جب صاحب شمشیر آئےگا وہ ایک ایسی چیز کے ساتھ آئے گا جو پہلی چیزوں سے مختلف ہوگی۔"
الکافی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 536

اور آپ علیہ السلام نے فرمایا، "جب قائم قیام کریگا وہ ایسے امر کے ساتھ آئے گا جو پہلے اوامر سے مختلف ہوگا۔"
-غیبہ الطوسی


رجعت


اور جب تم نے (موسیٰ) سے کہا کہ موسیٰ، جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں گے، تم پر ایمان نہیں لائیں گے، تو تم کو بجلی نے آ گھیرا اور تم دیکھ رہے تھے  ﴿2:55﴾

پھر موت آ جانے کے بعد ہم نے تم کو ازسرِ نو زندہ کر دیا، تاکہ احسان مانو  ﴿2:56﴾


اور جس روز ہم ہر اُمت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے تو اُن کی جماعت بندی کی جائے گی  ﴿27:83﴾




زرارہ کہتا ہے، میں نے امام جعفر الصادق علیہ السلام سے رجعت اور اور اس کے جیسے اور عظیم معاملات کے متعلق دریافت کیا۔ " یقینا جس چیز کا تم نے سوال کیا ہے اسکا وقت ابھی نہیں آیا ہے، بلکہ وہ لوگ انکار کرچکے اس چیز کا جسکا ادراک وہ نہیں رکھتے، اور جسکی تاویل ابھی تک نہیں ہوئی۔"
-بہارالانوار/40



جمیل بن دراج سے روایت ہے اس نے کہا کہ میں نے امام الصادق علیہ السلام سے دریافت کیا خدا کے اس کلام کے متعلق: 'بالیقین ہم اپنے پیغمبروں اور مومنوں کی اس دنیا اور اس دن نصرت کرینگے جب شاہد قیام کرے گا-' (40:51)
انہوں نے فرمایا، "با خدا یہ 'الرجعہ' میں ہوگا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ بہت سے پیغمبروں کی اس دنیا میں نصرت نہیں کی گئی اور ان کا قتل کیا گیا، اور آئمہ کو قتل کیا گیا اور مدد نہ کی گئی لہذا یہ 'رجعت' میں ہوگا۔
میں نے کہا 'اس دن جب پکارنے والا ایک قریبی جگہ سے پکارے گا، وہ دن جب وہ ایک چیخ سنیں گے یقینا اس دن وہ نکل آئینگے۔' قرآن
امام نے جواب دیا، یہ رجعت ہے۔
-مختصر بصائرالدرجات

امام احمد الحسن علیہ السلام فرما تے ہیں، "رجعت کی دنیا اس دنیا سے الگ کوئی اور دنیا نہیں ہے۔ ہم اسوقت زمانہ رجعت میں ہیں اور ہر دور میں رجعت ہوئی ہے اور رجعت کا سلسلہ رکا نہیں۔
مگر اس بار بالخصوص اہمیت کا حامل ہے۔ اور یہ دوبارہ نہیں آیگا کیوں کہ تمام رسول اور پیغمبر، اوصیاء اور پارسا جمع کیے گئے ہیں۔"

امام جعفر الصادق علیہ السلام نے مفضل سے فرمایا،
"تم 44 افراد کے ہمراہ حضرت قائم علیہ السلام کے ساتھ ہوگے، تم امام کے دائیں جانب ہوگے امر معروف و نہی عن المنکر کرتے ہوئے یہ زیادہ یقین کرینگے۔" - دلائل امامہ صفحہ نمبر 248، اثبات الہدی جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 573


امام علی علیہ السلام نے فرمایا، "اصحاب کہف امام مہدی علیہ السلام کی نصرت کے لئے آئیں گے۔" - ارشاد القلوب، صفحہ نمبر 286

مفضل ابن عمر سے روایت ہے کہ امام جعفر الصادق علیہ السلام نے فرمایا، "قائم آل محمد کے قیام کے وقت کچھ لوگ پشت کعبہ سے آیئنگے، جیسا کہ موسی علیہ السلام کی قوم سے 27 افراد جو کہ طور پر فیصلے جاری کرینگے۔ 7 اصحاب کہف، یوشع، موسی کی وصیت کو نبھانے والا، مومن آل فرعون، سلمان الفارسی، ابو دجانہ انصاری، اور مالک اشتر۔"
روعضہ الواعظین جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 55

امام جعفر الصادق علیہ السلام نے فرمایا، "رداوی کے پہاڑوں میں مومنوں کی ارواح اہل بیت کو دیکھ سکتی ہیں۔ ان کے کھانے سے نوش کرتی ہیں، ان کے مشروب سے پی لیتی ہیں، انکی مجالس میں شمولیت اختیار کرتی ہیں۔ اور ان سے مخاطب ہوتی ہیں یہاں تک ہم اہل بیت میں سے قائم کا قیام ہوتا ہے۔ اس وقت خدا ان ارواح کو جوش دلائگا۔ وہ اس کی پکار کو سنیں گے جوق در جوق اور اسکا ساتھ دینگے۔ اس وقت فاسد عقائد رکھنے والے شک میں پڑ جایئنگے۔ اور عالم ہونے کے دعویداروں کے گروہ، جماعت اور ان کے ہمراہ چلنے والے لوگ منتشر ہوجائیں گے جبکہ اللہ کے مقرب اور مومنین کو نجات مل جایئگی۔" - الکافی جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 131، بحارالانوار جلد نمبر 27، صفحہ نمبر 308
Post Reply