اللہ کی راہ میں خرچ کرنا

اس فورم میں آپ اردو میں موضوعات کا تبادلہ اور تبادلہ خیال کرسکتے ہیں

Moderator: Shana

Post Reply
MoonlitKnight14
Posts: 6
Joined: Sun Jul 12, 2020 8:26 pm

موسی ابن کثیر نے کہا، میں نے ابا عبداللہ الصادق علیہ السلام کو یہ کہتے ہوئے سنا:
ہمارے شیعوں کے لیے اس میں سے ایمانداری کے ساتھ خرچ کرنا حلال ہے کہ جو ان کے ہاتھ میں ہے، جب ہمارے قائم کا خروج ہوگا وہ ہر دولت مند شخص کہ جو دولت رکھتا ہو، کو اپنے لیے دولت رکھنے سے منع کریگا۔ جب تک کہ وہ اپنی دولت اس کے سامنے نہ لے آئے۔ تاکہ وہ اسے اپنے دشمنوں کے خلاف استعمال کرے۔ اور یہ اللہ عز و جل کا کلام ہے کہ، "وہ جو سونا اور چاندی ذخیرہ کرتے ہیں۔ اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، ان کو درد ناک عذاب کی خبر سنادو۔" ۔ الکافی، جلد نمبر 4، صفحہ نمبر 61


اللہ عز و جل کے کلام سے متعلق، کہ جہاں وہ فرمایا ہے کہ یقینا اللہ نے ان کے قول کو سنا ہے کہ جو کہتے ہیں کہ "بے شک اللہ غریب ہے اور ہم امیر ہیں۔" امام باقر علیہ السلام کا قول ہےکہ، "وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ امام علیہ السلام کو ان کی ان چیزوں کی ضرورت ہے کہ جو ان کے پاس ہیں۔" ۔المناقب، جلد نمبر 4، صفحہ نمبر 48


ابا عبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے "ایک مومن کے پاس اگر مال و دولت میں سے کچھ ہے تو وہ اپنے بچوں پر جتنا چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ اور قائم علیہ السلام کے خروج ہونے کے بعد، جو کچھ بھی اس کے پاس ہوتا ہے، وہ قائم علیہ السلام کے سامنے لے آتا ہے، اور جو باقی بچ جاتا ہے، وہ اسے اپنی ضروریات پر خرچ کرتا ہے، کہ اس نے اپنی ذمہ داری انجام دی۔" - بحارالانور، جلد نمبر 7، صفحہ نمبر 143


ابا سیار مسمع ابن عبدالمالک نے ایک طویل حدیث میں روایت کی ہے کہ اس نے ابا عبداللہ علیہ السلام سے کہا، "میں آپ کے حضور اپنی ساری دولت پیش کرتا ہوں، تو امام علیہ السلام نے فرمایا، اے ابا سیار، تمہاری دولت میں ہماری برکت ہے، اور تم کو اسے رکھنے کی اجازت دی ہے پس اپنی دولت تم اپنے پاس رکھو، اور اس زمین میں سے ہر ایک شے کو جو ہمارے شیعوں کے ہاتھ میں ہے، ان کے لئے اس وقت تک اپنے پاس رکھنے کی اجازت ہے کہ جب ہمارے قائم کا خروج ہوجائے ۔ وہ ان کے جائداد پر مصعول مقرر کریگا اور جائداد ان کے پاس چھوڑےگا۔" - جامع احادیث شیعہ جلد نمبر 8، صفحہ نمبر 598

ابو جعفر سے روایت ہے، "وہ توریت کے لوگوں کو توریت سے جواب دےگا، اہل انجیل کو انجیل سے، اہل زبور کو زبور سے، اور قرآن کے ماننے والوں کو قرآن سے جواب دےگا۔ اور زمین اور اس کے بطن سے تمام دولت اس کے سامنے جمع کی جائے گی۔ پس وہ لوگوں سے کہےگا، "اس چیز کی طرف آو جس کی وجہ سے رشتے منقطع کیے گئے ہیں
اور ناجائز خون بہایا گیا ہے، اور اللہ کی حرام کردہ عمل کو انجام دیا گیا ہے اور وہ اتنی دولت دیں گے کہ اس سے پہلے کسی نے نہیں دی ہے اور زمین کو عدل، انصاف، اور نور سے بھر دیگا جیسے کہ وہ ناانصافی، ظلم اور فساد سے بھری ہوئ ہوگی۔" الغیبہ النعمانی، صفحہ نمبر 243
Post Reply